جب آئے قبر میں دفناکے فاطمہؑ کو علیؑکہا حُسینؑ سے آئینگی اب نہ اماں کبھیتمہیں پلاؤنگا بیٹا میں آج سے پانییہ پہلی رات ہے یاد آئیگی بہت ماں کیتمہاری فکر میں ہوگی لحد میں ماں بےچینصبح سے جاگے ہو سوجاؤ تھوڑی دیر حسینؑبڑھ علیؑ نے گلے جب لگایایہ کہکے شبیرؑ نے سر آٹھایاآج میری ماں چلی گئیبابا مجھے یہ بتائیںکیوں چھوڑجاتی ہیں مائیںسینے سے اپنے لگاکراب کون دیگا دعائیںنظروں سے جاتا نہیں ماں کا چہراکیسے مجھے نیند آئیگی باباروتا ہوں جب سے سنا ہےماں کو طمانچہ لگا ہےاولاد کے سامنے کیاماں کو کوئی مارتا ہےیہ وقت بابا کسی پر نہ آئےماں اپنے بچوں سے چہرا چھپائےدروازہ ماں پر گراکرکہنے لگا اک ستمگرآج اتنا زہراؑ کو مارواُٹھ نا سکے زندگی بھرہنستا رہا مارکر تازیانےآیا نہیں ماں کو کوئی بچانےبازو ہی جب ٹوٹ جائےکیسے کوئی ہاتھ اُٹھائےبیٹے کو اس حال میں ماںسینے سے کیسے لگائےپھر بھی میرے ناز اُٹھاتی تھیں اماںتکلیف میں مسکراتی تھیں اماںماں مرگئی ہے پتہ تھاپر دل نہیں مانتا تھااور آپ نے میرے باباجب غسل اُنکو دیا تھایوں چیخ کر آپ روئے تھے بابااُسوقت مجھکو یقیں آگیا تھاہائے میں دربار سے گھرآیا تھا جب ماں کو لیکررستے میں اماں کے پاؤںخط کھینچتے تھے زمیں پرایسے قدم وہ اُٹھاتی تھیں باباچلتی تھیں پھر بیٹھ جاتی تھیں بابامارا تھا ظالم نے باباجس ہاتھ پر تازیانہبھولونگا کیسے میں ماں کاوہ ہاتھ مجھسے چھپاناوہ نیل میری نظر میں تب آیاماں نے کفن کھول کر جب بلایاجب دور اپنے وطن سےمحروم ہوکر کفن سےلاشہ پڑا ہوگا میرالٹ جائیگا سب بدن سےجاؤنگا اک روز کربوبلا میںلیکن غریب آج سے ہوگیا میںسینے سے اپنے لگاکراُسدم بہت روئے حیدرؑہائے رضا اور ذیشانجب بولے شبیرؑ روکرماں مرگئی اب جیونگا میں کیسےاے کاش مرجاتا میں اُن سے پہلے
Aaj Meri Maa Chali Gai
Syed Raza Abbas Zaidi · Poet: Zeeshan Abidi
Get the full experience
Create playlists, save favourites, follow reciters and listen offline — all in the Azadari Media app.