Azadari MediaAzadari MediaGet the app

Allaho Akbar

Shabhi Gopalpuri · Poet: Maulana Hasan Raza Sahab · 2026

بسم رب الشھداءلوٹا گیا زہرا کا بھراگھر اللہ اکبراجڑا ہوا ہے باغ پیمبر اللہ اکبرچاند حسن کا چھپ گیا جاکر کرب و بلا کے بادل میںبیوہ ماں کی ساری کمائی لٹ گئی ہائے جنگل میںلاشہ قاسم خیمہ میں کیسے شاہ والا لے جائیںابن حسن کی لاش کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں مقتل میںآس لگائے خیمہ کے در پر اللہ اکبردیکھ رہی ہے رستہ مادر اللہ اکبرشانے کٹا کر نہر کنارے ثانی حیدر سوتا ہےبیبیاں نوحہ پڑھتی ہیں اور بچوں میں ماتم ہوتا ہےپیاسوں نے خالی کوزے زمیں پر پھینک دییے ہیں روتے ہوئےبھائی کے غم میں خون کے آنسو ایک برادر روتا ہےہاتھ رکھے ہے اپنا کمر پر اللہ اکبراور یہ جملہ بھی ہے زباں پر اللہ اکبرلاش جواں پر بوڑھے پدر کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیںہائے ضعیفی کے عالم میں داغ پسر کا سہتے ہیںسبط پیمبر کی غربت پر لشکر اعدا ہنستا ہےجانب دریا دیکھ کے سرور روتے ہوئے یہ کہتے ہیںکوئی نہیں ہے ناصر و یاور اللہ اکبرکیسے اٹھاوں لاشہ اکبر اللہ اکبرتیر جفا سے چھیدا گیا جب ننھے علی اصغر کا گلاپہلے رگیں گردن کی کٹیں پھر بازوئے شہ میں تیر لگامثل شتر وہ نحر ہوا ہے اپنے پدر کے ہاتھوں پرگردن اصغر چھوٹی تھی اور تیر تھا تیر سہ شعبہسرکو جھکائے روتے ہیں سرور اللہ اکبرماں سے کہونگا میں کیا جاکر اللہ روکرلشکر اعداء میں تنہا ہے فاطمہ زہرا کا دلبرتیر سے کوئی مارتا ہے اور کوئی چلاتا ہے پتھرخون سے تر ہے پیشانی اور شاہ کا سینہ چھلنی ہےپشت فرس سے جلتی زمیں پر آتا ہے سبط پیغمبربڑھتا ہے قاتل لیکر خنجر اللہ اکبرکہتی ہے روکر بنت پیمبر اللہ اکبرخیمہ شاہ میں فوج ستمگر آگ لگانے آئی ہےدیکھ کے یہ پردرد نظارہ بنت علی گھبرائی ہےکس کو بلائے بحر مدد اب قاسم و اکبر کوئی نہیںشام غریباں کا ہے اندھیرا اور شب تنہائی ہےغش میں پڑے ہیں عابد مضطراللہ اکبرجلنے لگا ہے ان کا بستر اللہ اکبرشہ کی یتمہ اپنے پدر کو ڈھونڈنے آئی جب رن میںرخ پہ طمانچوں کے تھے نشاں اور آگ لگی تھی دامن میںلاشہ بے سر جب یہ پکارا آؤ سکینہ آؤ ادھر ٹھوکریں کھاتی لاش پہ پہونچی ننھی سی اک دکھیا بن میںبولی رضا یہ بچی روکر اللہ اکبرکب آؤگے بابا اب گھر اللہ اکبر

Get the full experience

Create playlists, save favourites, follow reciters and listen offline — all in the Azadari Media app.