Azadari MediaAzadari Media

Mere Bachy Hain Abhi Chohte Ya Ali

Mir Sajjad Mir · Poet: Mir Sajjad Mir

Listen to this nauhaPlay the audio with lyrics
رو کے زہرا علی سے یہ کہتی رہی میرے بچے ہیں چھوٹے ابھی یا علیان کا کیا ہوگا جب میں گزر جاؤں گی میرے بچے ہیں چھوٹے ابھی یا علیمیرے بچوں کو لوری سنائے گا کونسو گئی میں تو ان کو سلائے گا کونکون اٹھائے گا ناز انکے میری طرحاپنے ہاتھوں سے لقمے کھلائے گاکون مادر کی پوری کرے گا کمی‎کیسے ہوگا بھلا میرا غسل و کفنچور زخموں سے ہے میرا سارا بدنکس طرح سے سنبھاللیں گے مجھ کو بھلاننھے ہاتھوں سےاپنگ کو حسین و حسنان سے میت مری اٹھ نہیں پائی گیُکچھ دنوں میں گزر جائے گی ان کی ماںمت بتاتنا کہ زخمی تھیں یہ پسلیاںمیں تو آنسو بھی ان سے چھپاتی رہیکیسے دیکھیں گے وہ میرے خوں کے نشاںان سے چادر چھپانا میری خوں بھری-آئی دربار سے جس گھڑی اپنے گھررو پڑے میرے بچے مجھے دیکھ کرپوچھا منہ پہ تماچوں کے کیوں ہیں نشاںکان کی بالی اماں گری ہے کدھرچپ رہی اپنے بچوں سے کیا بولتیقبر میں روؤں گی ان سن سن کے بینجانے کب آئے گا میرے بچوں کو چینمجھ کو معلوم ہے نیند سے جاگ کرمجھ کو ڈھونڈیں گے میرے حسن اور حسینکیسے سمجھیں گے اب ماں نہیں آئے گیخود سے کرتی ہوں اکثر یہ رو کر سوالکون رکھے گا مولا تمہارا خیالاس جوانی میں دڑھی سفید ہوگئیمیرے مرنے سے ہو جائیں گے اور نڈھالخود کو مولا سبنھالیں قسم ہے مریمیر سجاد ماں کی جو میت اٹھیماں کو اولاد کھل کر نہیں رو سکیآستیں منہ میں رکھ رکھ کے روتے تھے سبانکی غربت پہ روتے رہے خود علیفاطمہ کی کفن سے صدا آتی تھی

Get the full experience

Create playlists, save favourites, follow reciters and listen offline — all in the Azadari Media app.